کد خبر ۵۲۳ ۳۱۱ بازدید انتشار : ۱۸ مهر ۱۳۹۵ ساعت ۱۵:۵۱

اپنا اپنا وقت

س کہانی سے ہمیں سبق ملتاہے کہ کسی کو حقیر اورکمزور نہیں سمجھنا چاہئیے ۔کیونکہ کبھی بھی کسی کے دن پلٹ سکتے ہیں ۔

اپنا اپنا وقت

 کوا ایک پیڑ کی شاخ پر آکر بیٹھا۔ جو اسے بہت پسند آئی ۔ اسی شاخ پر ایک الو رہتا تھا ۔کوا  الو سے بولا ۔اچھی جگہ ہے یہاں اچھا سا ایک گھونسلہ بن سکتا ہے ؛ ضروربن سکتا ہے ۔اس شاخ پر کافی جگہ ہے ۔ الو نے اپنائیت سے کہا ۔اور آپ کو اپنا پڑوسی  بنا کر مجھے بہت خوشی ہوگی ۔ لیکن مجھے خوشی نہیں ہوگی ۔" کوا بڑے تھیکے لہجے میں بولا ۔ہم دونوں ایک ہی شاخ پر کیسے رہ سکتے ہیں ؟" تو پھر دوسری شاخ دیکھو ۔یہاں کیوں بیٹھے ہو "۔الو نے دوٹوک جواب دیا ۔یہ سن کر کوے نے الو پر حملہ کردیا ۔اور اس کو بھگادیا  ۔کوا بہت خوش تھا ۔ اس نے الو سے جگہ چھین لی تھی ۔رات ہوئی ۔ کوا سرجھکائے شاخ پر بیٹھا تھا ۔کسی نے ایک چونچ اس کے سرپر ماری  "۔کون ؟" کوا، اچانک چونک کر چلایا۔" بھول گئے ؟"چونچ مارنے والے نے کہا ۔ آواز پہچان کر کوا تمسخرانہ لہجے  میں بولا ۔"مجھے بھولنے کی عادت نہیں ۔"

لیکن یہ تم بھول گئے تھے۔ جو تمہاری رات ہے  وہی میرادن ہے ۔یہ کہہ کر الو نے حملہ کردیا کوے کی آنکھیں  پھوڑ ڈالیں  اوراپنی جگہ  اس سے چھین لی ۔پیارے بچو اس کہانی سے ہمیں سبق ملتاہے  کہ کسی کو حقیر اورکمزور نہیں سمجھنا چاہئیے ۔کیونکہ کبھی بھی کسی کے دن پلٹ سکتے ہیں ۔