کد خبر ۵۸۶ ۴۲۳ بازدید انتشار : ۱۱ آبان ۱۳۹۵ ساعت ۲۰:۰۲

پیارے بچو! اپنے امام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے متعلق پڑھیں

م موسی کاظم علیہ السلام عالم اور متقی انسان تھے آپ (ع) کا علم و فضل آسمانی اور اللہ کی طرف ۔ سے آپ (ع) کی عبادت اور زہد اتنا تھا کہ آپ (ع) کو عبد صالح یعنی نیک بندہ کہا جاتا تھا ۔ آپ (ع) بہت صابر اور شاکر تھے ۔ مصائب کو برداشت کرتے تھے اور لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کردیتے تھے ۔ اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے آپ (ع) سے ایسی ناشائستہ حرکت جو غصہ کا موجب ہوتا تھا ۔ تو آپ غصہ کو پی جاتے تھے اور محبت و مہربانی سے اس کی رہنمائی فرماتے تھے ۔

پیارے بچو! اپنے امام حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے متعلق پڑھیں

حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام 7 صفر المظفر 128/ ہجری کو پیدا ہوۓ آپ (ع) کے والد کا نام امام جعفر صادق علیہ السلام اور والدہ کا نام حمیدہ تھا ۔  امام جعفر صادق علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم اور پیغمبر (ص) کی وصیت کے مطابق اپنے بعد امام موسی کاظم علیہ السلام کو لوگوں کا امام  اور پیشوا معین کیا اور لوگوں کو اس سے آگاہ فرمایا ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام عالم اور متقی انسان تھے  آپ (ع) کا علم و فضل آسمانی اور اللہ کی طرف ۔ سے آپ (ع) کی عبادت اور زہد اتنا تھا کہ آپ (ع) کو عبد صالح یعنی نیک بندہ کہا جاتا تھا ۔ آپ (ع) بہت صابر اور شاکر تھے ۔ مصائب کو برداشت کرتے تھے اور لوگوں کی غلطیوں کو درگزر کردیتے تھے ۔ اگر کوئی شخص جہالت کی وجہ سے آپ (ع) سے ایسی ناشائستہ حرکت جو غصہ کا موجب ہوتا تھا ۔ تو آپ غصہ کو پی جاتے تھے اور محبت و مہربانی سے اس کی رہنمائی فرماتے تھے ۔ اسی لۓ آپ (ع) کو کاظم (ع) (یعنی غصہ کو پی جانے والا ) کہا جاتا تھا ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام پچیس سال اس دنیا میں زندہ رہے اور اپنی امامت کے زمانے کو صبر و شکر کے ساتھ گزاردیا آپ (ع) لوگوں کی دستگیری اور راہنمائی فرمانے میں مشغول رہے ۔ 5 رجب 183 ہجری کو بغداد میں شہید کردۓ گۓ ۔ خدا فرشتوں کا آپ (ع) پر ہمیشہ سلام اور درود ہو ۔

 دوسرا سبق :

ہدایت امام

ایک فقیر و نادار شخص کاشتکاری کرتا تھا ۔ جب بھی امام موسی کاظم علیہ السلام کو دیکھتا آپ (ع) سے گستاخی کرتا اور انکو گالیاں دیتا تھا ہرروز امام موسی کاظم علیہ السلام اور آپ (ع) کے دوستوں کو تنگ کرتا تھا ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام برابر اپنا غصہ پی جاتے تھے ۔ اوراس کی اذیت اور گالیوں کا جواب نہ دیتے تھے ۔ لیکن آپ (ع) کے دوست اس شخص کی بے ادبی اور گستاخی سے سخت آزردہ خاطر ہوتے ۔ ایک دن جب اس آدمی نے حسب معمول اپنی زبان بد گوئی کے لۓ کھولی تو امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوستوں نے ارادہ کرلیا کہ اسے سزا دینگے اور اتنا ماریں گے کہ مرجاۓ تاکہ اس کی بد زبانی ہمیشہ کے لۓ بند ہوجاۓ اور اس دنیا میں بھی اپنے کۓ کا نتیجہ بھگت جاۓ ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کو ان ارادے کا علم ہوگیا ۔

 

آپ (ع) نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا ۔ اور فرمایا اے میرے دوستوں !  صبر کرو میں خود اسے ادب سکھاؤں گا ۔ چند دن گذر گۓ اور اس شخص کی ناشائستہ حرکت میں فرق نہ آیا امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب اس رویہ سے بہت ناراض تھے لیکن جب وہ ارادہ کرتے کہ اسے خاموش کریں تو آپ (ع) انہیں روک دیتے تھے اور فرماتے تھے دوستو ! صبر کرو : میں خود اسے نصیحت کروں گا ۔ ایک دن امام موسی کاظم علیہ السلام نے  پوچھا کہ وہ آدمی کہاں ہے ۔ دوستوں نے کہا کہ شہر کے باہر اپنی زمین پر زراعت کرنے میں مشغول ہے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام سوار ہوۓ اور اس کی طرف چلے ۔

 

اس نے جب امام (ع) کو آتے دیکھا تو اپنے بیلچے کو زمین پر گاڑ کر ہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑا ہوگیا ۔ وہ اپنی زبان بد گوئی کے لۓ کھولنا چاہتا تھا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام اترے اور اس کی طرف بڑھے ۔ مہربانی سے سلام کیا اور نہایت نرمی سے ہنس کر اس سے گفتگو شروع کی ۔ آپ (ع) نے کہا تم تھک تو نہیں گۓ ہو ۔ تمہاری زمین کتنی سرسبز و شاداب ہے ۔ اس سے کتنی آمدنی ہوتی ہے ؟ اور کاشت کرنے پر کتنا صرف ہوتا ہے ۔ وہ امام موسی کاظم علیہ السلام کی تہذیب اور خوش اخلاقی سے تعجب میں پڑگیا اور کہنے لگا ! ایک سو طلائی سکہ : امام موسی کاظم علیہ السلام نے پوچھا کہ تم کو اس زمین کی پیداوار سے کس قدر آمدنی کی توقع ہے ۔ اس نے سوچ کر کہا : دوسو طلائی سکے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام نے ایک تھیلی نکالی اور اس سے کہا کہ تجھے اس سے بھی زیادہ آمدنی نصیب ہوگی ۔ جب اس مرد نے اپنے برے کردار اور اذیت اور آزار کے مقابلے میں یہ اخلاق دیکھا تو بہت شرمندہ ہوا اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا : کہ میں برا انسان تھا اور آپ کو تکلیف دیتا تھا لیکن آپ (ع) پایہ اور بزرگ انسان کے فرزند ہیں ۔ آپ (ع) نے مجھ سے اچھائی کی ہے اور میری مدد فرمائی ہے ۔ میں گذارش کرتاہوں کہ آپ (ع) مجھے معاف کریں ۔

 

امام موسی کاظم علیہ السلام نے مختصر کلام کے بعد اس کو خدا حافظ کہا اور مدینہ کی طرف پلٹ آۓ ۔ اس کے بعد جب بھی وہ مرد امام موسی کاظم علیہ السلام کو دیکھتا تھا باادب سلام کرتا تھا امام موسی کاظم علیہ السلام  اور آپ کے دوستوں کا احترام کرتا اور کہتا تھا : کہ خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کو لوگوں کا امام اور پیشوا قرار دے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوست تعجب کرتے تھے کہ کس طرح آزار اور گالیاں دینے والا انسان اس قدر با ادب اور مہربان ہو گیا ہے ۔ شاید انہیں یہ علم نہ تھا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام  نے اس کی کس طرح تربیت کی تھی ۔

 ان سوالوں اور ان کے جوابات کو اپنی کاپیوں میں لکھو :

1-      کاظم کے کیا معنی ہیں ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام کو کیوں کاظم کہا جاتا ہے ؟

2-      امام موسی کاظم علیہ السلام کس دن کس مہینے اور کس سال پیدا ہوۓ ؟

3-      آپ کے والد اور والدہ کا کیا نام تھا ؟

4-      آپ کا کوئی اور لقب تھا اور وہ کیوں آپ کو دیا گیا ؟

5-      امام موسی کاظم علیہ السلام نے اس کاشتکار کی کس طرح تربیت کی ؟

6-      امام موسی کاظم علیہ السلام کے دوست اس مرد کی کس طرح تربیت کرنا چاہتے تھے اور امام موسی کاظم علیہ السلام نے انہیں کیا فرمایا ؟

7-      وہ آدمی امام (ع) کے حق میں کیا کہا کرتا تھا ؟

8-      جب آپ سے کوئی برائی  کرتا تھا تو آپ اس سے کیا سلوک کرتے تھے ؟

9-      اگر کوئی جہالت کی وجہ سے تم سے بد سلوکی کرے تو تم اس کی کس طرح تربیت کرو گے ؟

10-    جب تم کو غصہ آتا ہے تو کیا اپنا غصہ پی جاتے ہو ؟