کد خبر ۵۹۵ ۴۱۴ بازدید انتشار : ۱۲ آبان ۱۳۹۵ ساعت ۰۹:۴۸

ہمدردی

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے

ہمدردی 

 

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا

کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی

اُڑنے چگے میں دن گزارا

پہنچوں‌کس طرح آشیاں تک

ہرچیز پہ چھا گیا اندھیرا

سُن کے بلبل کی آہ وزاری

جگنو کوئی پاس ہی سے بولا

حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے

کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا

کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری

میں راہ میں روشنی کروں گا

اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل

چمکا کے مجھے دیا بنایا

 

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے