کد خبر ۶۱۳ ۴۱۲ بازدید انتشار : ۱۶ آبان ۱۳۹۵ ساعت ۱۹:۳۱

امتحان

امتحانامتحان ہونے والا تھا ،بچے خوب تیا رہوکر آئے تھے ۔ کتاب سب نے فرفرسنادی ۔ ماسٹر صاحب نے جو سوال پوچھا جھٹ پٹ بتا دیا ۔ کتاب کے ایک ایک لفظ کے ہجے اور املا خوب دیکھ لیا تھا۔ املا کا امتحان ہونے لگا۔ ماسٹر صاحب نے تمام بچوں کو آگے پیچھے بٹھا دیا ۔ بچے جانتے تھے کہ املا لکھتے وقت ایک دوسرے کی نقل نہیں کی جاتی ۔ قلم وکاپی ٹھیک کر کے بچے املا لکھنے لگے ۔ مظہر لفظ ’’وارث‘‘ پر اٹک گیا ۔اسے یاد نہ رہا کہ لفظ وارث میں ’’س‘‘ ہے یا ’’ث‘‘ سراٹھا کر سوچنے لگا۔

امتحان

امتحان  ہونے والا تھا ،بچے خوب تیا رہوکر آئے تھے ۔ کتاب سب نے فرفرسنادی ۔ ماسٹر صاحب نے جو سوال پوچھا جھٹ پٹ بتا دیا ۔ کتاب  کے ایک ایک لفظ  کے ہجے  اور املا خوب دیکھ لیا تھا۔ املا کا امتحان ہونے لگا۔ ماسٹر صاحب نے تمام بچوں کو آگے پیچھے  بٹھا دیا ۔ بچے جانتے تھے کہ املا لکھتے وقت ایک دوسرے  کی نقل نہیں کی جاتی  ۔ قلم وکاپی ٹھیک کر کے بچے املا لکھنے لگے ۔ مظہر لفظ ’’وارث‘‘ پر اٹک گیا ۔اسے یاد نہ رہا کہ لفظ وارث میں ’’س‘‘ ہے یا ’’ث‘‘ سراٹھا کر سوچنے لگا۔

آگے اصغر بیٹھا تھا۔ مظہر کی نظر اس کی کاپی پر پڑی اس نے ’’ ث‘‘ سے لکھا تھا مظہر کو بھی یاد آگیا اس نے جھٹ لکھ لیا۔

پھر سوچا، یہ امتحان کیا ہوا میں نے  تو اصغر کا دیکھ کر لکھا ہے  اس نے فورا لفظ کاٹ دیا ۔ امتحان ختم ہوا۔ ماسٹر صاحب تمام کاپیاں دیکھنے لگے اور بچوں  کو خوب نمبر دیٗے جب مظہر کی کاپی  دیکھی تو بولے  : مظہر! تم نے ’’وارث  ‘‘ ٹھیک تو لکھا تھا کاٹ کیوں دیا؟ اب تو تمہارے نمبر کم ہوجائیں گے ۔ مظہر نے ساری بات سچ سچ بتا دی یہ سن کر ماسٹر صاحب بہت خوش ہوئے اور مظہر کو پورے نمبر دیٗے۔

پیارے بچو اچھا بچہ وہی ہے جو اپنی محنت سے امتحان میں کامیابی  حاصل کرتا ہے  اور وہی بچہ آگے چل کر کامیاب  ہوتا ہے  جو بچہ نقل کرکے  امتحان پاس کرتا ہے  وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا ۔