کد خبر ۸۵۲ ۴۰۶ بازدید انتشار : ۱۴ بهمن ۱۳۹۵ ساعت ۱۹:۴۵

شکریہ

وہ دونوں جیسے بھی تھے آخر تھے مسلمان ہی، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ سنتے ہی ان دونوں کے سر شرم سے جھکتے چلے گئے، کچھ دیر خاموشی کے بعد حسن نے سر اٹھایا تو دو موٹے موٹے آنسو اس کے گال پر لڑھک گئے اور وہ رونے والی آواز میں بولا۔ علی بھائی، میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے پیارے نبی ؐ کی باتیں بتا کر اور بہت بڑے گناہ سے بچا لیا۔

حسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہو تم۔
راشد نے گھر میں داخل ہوتے ہی اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کردیں۔
کیا ہے بھائی، یہاں ہوں۔ حسن نے کھڑکی سے جھانک کر نیچے آنگن  میں کھڑے راشد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے، اس نے اوپر سے ہی سوال داغا، نیچے آﺅ گے تو بتاﺅں گا۔ راشد نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اشتہار کو پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
نہیں، میں اورعلی بھائی چھٹیوں کا ہوم ورک کررہے ہیں تم بھی اوپر ہی آجاﺅ۔ حسن نے یہ کہہ کر کھڑکی بند کردی،اور جب راشد سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں پہنچا، ہاتھ میں لئے بڑے بینر کو حسن کی آنکھوں کے سامنے کھول کر لہرادیا۔
جیسے جیسے وہ بینر پڑھتا گیا اس کے چہرے کے رنگ میں تبدیلی آتی گئی، یا ہو، بینر پڑھتے ہی اس نے لوفرانہ قسم کا نعرہ لگایا اور بڑی خوشی سے کہا۔ چلنا کب ہے۔
کل شام چھ بجے۔
نہیں، پیسے میں نے ابو سے لے لیے ہیں لیکن ٹکٹ لینے اکٹھے چلیں گے بلکہ اب توعلی بھائی کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے، راشد نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے  بولا ۔
ان کا نیا دوست علی جو پہلی دفعہ ان کے گھر آکر ان کے ساتھ ہوم ورک میں شریک تھا مگر اب تک خاموش بیٹھا تھا بولا، کیسا ٹکٹ! خیر تو ہے کہاں جانا ہے۔
وہ علی بھائی ایک بہت بڑی خوشخبری کی بات ہے آپ بھی سنیں گے تو خوش ہوجائیں گے، سچ پوچھو تو اسے ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر تھک چکا تھا، کتنا مزہ ہوگا جب حقیقت میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پرفارم کرتے دیکھوں گا، حسن نے بڑی خوشی خوشی تفصیل بتائی مگر علی کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا اس نے کہا میں سمجھا نہیں، آخر آپ دونوں کھل کر مجھے بات کیوں نہیں بتا رہے، کیسی خوشخبری۔ کسے ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر تھک گئے۔ اس نے دونوں کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا، ارے علی بھائی آپ کو نہیں پتا کل ایک گراﺅنڈ میں Festival   شروع ہورہا ہے اور اس میں کل شام گانے بچانے  کا بڑا شو ہوگا جس میں باہری ملکوں کے لوگ بھی شریک ہو رہے ہیں ،پہلے تو مجھے خود بھی  یقین نہیں آ  رہا تھا لیکن جب اس  Festival کا بینر دیکھا میں مطمئن ہوگیا، ویسے کتنا مزہ آئے گا جب کل آپ بھی ہمارے ساتھ پہلی نشستوں پر بیٹھ کراس شو کا لطف اٹھائے گے ۔
راشد نے پورے پروگرام کو  چٹخارے لے لے کر بتاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی ایک دفعہ پھر اشتہار کھول کر علی کے سامنے کردیا۔
اف میرے خدا، کہتے ہوئے  علی نے سر پکڑ لیا اور  غمگین ہوکر آہستہ سے زمین پر بیٹھ گیا۔ کیوں علی  بھائی کیا ہوا۔ وہ دونوں علی  کو ایسے بیٹھے ہوئے دیکھ کر ایک ساتھ چیخے۔
بیٹھو، اس نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اور کہا
دیکھو چونکہ  میں آپ لوگوں کا نیا دوست بنا ہوں، اس لیے پہلے تو میں آپ کے مزاج  کو نہیں جانتا تھا اور اب جب  میں جان چکا ہوں تو میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، امید کرتا ہوں کہ آپ لوگ ناراض نہیں ہوں گے۔حسن نے  بہت ہی سنجیدہ لہجے میں کہا۔ نہیں بالکل نہیں۔ آپ تو ہمارے اتنے اچھے دوست ہیں،بھلا آپ کی باتوں کا ہم برا کیوں مانیں گے، حسن نے کہا اور راشد نے اس کی ہاں  میں سر ہلایا۔
اگر آپ ناراض نہیں ہوتے تو پھر سنو، میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا، دونوں اپنی جگہ سے اس طرح اچھلے جیسے اسپرنگ لگ گئے ہوں۔
لیکن کیا بات ہے کہ آپ ہمارے ساتھ شو میں شریک نہیں ہوسکتے۔
اس لیے کہ ناچ گانے کی محفلیں، کھیل تماشے اور دوسرے  ورائٹی شو یہ سب  دین محمد صلی اللہ علیہ و  آلہ و سلم سے کھلی بغاوت ہے اور ایسی محفلوں میں شرکت گناہ ہے خدا وندعالم اور ہمارے نبی ؐ نے ایسی چیزوں کو دیکھنے اور جہاں پر یہ سب پروگرام ہو رہے ہیں جانے سے منع کیا ہے ۔
کیا؟؟؟؟؟؟ وہ دونوںبری طرح بوکھلا گئے۔ کیا واقعی۔
ہاں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ گانے بجانے کے بارے میں  ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کیا فرمایا۔ نہیں۔ مہربانی فرما کرعلی  بھائی آپ  بتادیں کہ اس بارے میں  نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے کیا فرمایا ہے کیوں کہ مجھے بہت ہی زیادہ گانے سننے کا شوق ہے۔
 علی نے کہا : ہاں، ہاں ضرور سنو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ میری امت میں بعض لوگ ہلاک ہوں گے اور ان کی صورتیں بھی عجیب طرح کی ہوں ،جب گانے والی عورتیں اور گانے والے سامان  ظاہر ہوں گے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ گانے اور باجوں سے بچو، اور فرمایا ہے کہ اللہ لعنت فرماتا ہے اس شخص پر جو گانے بجانے کا کام کرے یا گھر میں  لوگوں کو گانا گانے کے لئے بلائے ۔
وہ دونوں جیسے بھی تھے آخر تھے مسلمان ہی، پیارے نبی  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ سنتے ہی ان دونوں کے سر شرم  سے جھکتے چلے گئے، کچھ دیر خاموشی کے بعد حسن نے سر اٹھایا تو دو موٹے موٹے آنسو اس کے گال پر لڑھک گئے اور وہ رونے والی آواز میں بولا۔ علی  بھائی، میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے پیارے نبی ؐ کی باتیں بتا کر اور بہت بڑے گناہ سے بچا لیا۔
اور کہتا ہے کہ واقعی، آج سے پہلے میں نے جو کچھ بھی کیا نادانی اور جہالت کی وجہ سے کیا اب میں آئندہ سے  اس طرح کی کسی بھی  محفل میں شرکت نہیں کروں گا اور نہ ہی گانے سنوں گا، اس نے دونوں ہاتھ کانوں کو لگاتے ہوئے کہا۔ اور میں بھی، راشد نے سر اٹھاتے ہوئے وعدہ کرنے والے  لہجے میں کہا اور نفرت سے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پوسٹر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔
شاباش میرے دوستو، تم سے یہی امید تھی کیوں کہ کوئی بھی مسلمان جان بوجھ کر کسی برائی کا کام نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ شیطان کے بہکانے پر اس کے جال میں آجاتا ہے ہمیں چاہیے کہ اپنے مہربان خدا  سے اپنے گزرے ہوئے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ بھی گناہ نہ کرنے کا وعدہ کریں۔
اس کے بعدعلی  نے ا سورہ آل عمران کی چند آیات کی تلاوت کرکے اس کا ترجمہ پڑھا تو بے اختیار دونوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
ترجمہ: اور اہل ایمان لوگوں میں سے جب کوئی کھلی بے حیائی یا اپنے حق میں کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو وہ اللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہ کون بخش سکتا ہے اور وہ جان بوجھ کر اپنے (برے) کاموں پر اڑے نہیں رہتے۔
راشد نے آگے بڑھ کر کہا۔علی بھائی ہم دونوں آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں دوزخ کا ایندھن بننے سے بچالیا۔
نہیں نہیں اس میں شکریہ کی کیا بات ہے یہ تو میرا دینی و اخلاقی فرض تھا کہ آپ کو برائی سے نکال کر نیکی کی طرف لاﺅں بلکہ شکریہ تو مجھے آپ دونوں کا ادا کرنا چاہیے کہ آپ دونوں نے گناہوں والی زندگی سے نکل کر مہربان خدا کی بندی والی زندگی کا آغاز کیا۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر
ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ آذان کی آواز گونجنے لگی، موذن صاحب نے سب کو کامیابی کی دعوت دی اور نماز کی طرف بلایا تو تینوں دوست ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گناہ کی دعوت والے پوسٹر کے ٹکڑوں کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے مسجد کی طرف چل پڑے۔
پیارے دوستو، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے آس پاس کے ماحول پر نظر دوڑائیں، کہیں کوئی ہمارا دوست یا عزیز کوئی گناہ تو نہیں کر رہا ، اگر ہے تو اسے پیار و محبت سے نصیحت کیجئے، کیا پتہ  آپ کے دل کی گہرائی سے نکلے ہوئے دو بول کسی کی زندگی کی کایا پلٹنے کا سبب بن جائیں اس لیے کہ جب تک وہ نیک کام کرتا رہے گا اس کا اجر و ثواب آپ کو بھی ملتا رہے گا۔