کد خبر ۸۲۵ ۴۲۷ بازدید انتشار : ۵ بهمن ۱۳۹۵ ساعت ۱۶:۴۵

زندگی میں کامیابی کے اہم راز

پیارے بچو! اس دنیا میں جتنے بھی انسان رہ رہے ہیں شايد ہي ان میں کوئي ایسا ہو جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس سے کوئی بھی غلطی نہیں ہوئی ہے ۔ اسلامي تعليمات ميں بھي ذکر ہے کہ چودہ معصومين کے علاوہ جتنے بھی انسان ہیں سب سے غلطی سرزد ہو سکتی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مختلف طرح کي غلطيوں سے مرتکب ہو ۔ بعض غلطيوں کا تعلق انسان اور خدا کے درمیان ہوتا ہے اور بعض کا انسان کا دوسرے انسانوں سے۔
انسان کي کاميابي کا ايک راز يہ ہے کہ وہ ہر طرح کے حالات  سے بہترين انداز ميں فائدہ اٹھانا جانتا ہو اور ہر طرح کے حالات ميں کوشش کرے کہ اس وقت اور لمحے کو بہترين انداز ميں استعمال کرے ۔

 انسان کو کوشش کرني چاہيے کہ ہميشہ گناہوں  اور خطاوں سے بچا رہے ۔ اگر انسان ہر لمحے خود کو مصروف رکھے اور اس کا دھيان ہميشہ خدا کي طرف ہو تب شيطان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان کو بہکائے اور يوں انسان گناہوں سے بچا رہتا ہے۔ کامياب انسانوں کی يہ بھي خوبي ہوتي ہے کہ ان سے جب ان سے کوئي خطا سرزد ہو جاتي ہے تب وہ اپني غلطي کو دور  کرنے کي پوري کوشش کرتے ہيں تاکہ کم سے کم نقصان کا سامنا کرنا پڑے۔

جو انسان اپنے اندر پائی جانے والی برائی یا غلطی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کو خدا وند عالم دنیا اور آخرت میں کامیابیاں عطا فرماتا ہے ۔ جیسا کہ خدا وندعالم  سورہ آل عمران ميں اللہ تعالي فرماتا ہے :’’وَ الَّذينَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَ مَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللَّهُ وَ لَمْ يُصِرُّوا عَلى  ما فَعَلُوا وَ هُمْ يَعْلَمُونَ‘‘
ترجمہ: اور جن سے کبھي نازيبا حرکت سرزد ہو جائے ياوہ اپنے آپ پر ظلم کر بيٹھيں تو اسي وقت خدا کو ياد کرتے ہيںاور اپنے گناہوں کي معافي چاہتے ہيں اور اللہ کے سوا گناہوں کابخشنے والا کون ہے اور وہ جان بوجھ کر اپنے کيے پر اصرار نہيں کرتے ہيں  (آل عمران:۱۳۵)
کامياب انسان غلطي کے بعد ، اس کے اثرات کو اسي لمحے زائل کرنے کي کوشش کرتے ہيں یہ نہیں سوچتے کہ ابھی تو پہلی غلطی ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے اور غلطيوں کو جمع نہيں ہونے ديتے ہيں ۔

پیارے بچو !  انسان کو گمراہ کرنے کي غرض سے شيطان ہميشہ انسان کي اس خوبي کو چھیننے کي کوشش ميں لگا رہتا  ہے ۔  امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں کہ شيطان اس خوبي کو ختم کرنے کي  پوري کوشش کرتا ہے ۔ جب آيت کريمہ "وَ الَّذِينَ إِذا فَعَلُوا فاحِشَةً ..."  نازل ہوئي تب ابليس مکہ کے بلند ترين پہاڑ " تور " پر گيا اور بلند آواز ميں اپنے شاگردوں کو آواز لگائي ۔ اس کے شاگرد وہاں پہنچے اور بلانے کي وجہ پوچھي تو اس نے اس آيت کے بارے ميں ان کو بتايا اور کہاں کہ تم ميں کون اس کا حريف ہے ، تو ايک شاگرد کھڑا ہوا اور بولا کہ  ميں اس کا حريف ہوں اور اس کے اثر کو زائل کروں گا۔ ابليس نے اسے کہا کہ تم اس کے حريف نہيں ہو ۔ پھر ايک دوسرا شاگرد کھڑا ہوا اور يہي بولا ، اس کو بھي ايسا ہي جواب ملا ۔ پھر وسواس جناس کھڑا ہوا اور بولا کہ ميں اس کا حريف ہوں تب اس سے پوچھا گيا کہ تم کيسے يہ کام کرو گے ۔  اس سے کہا کہ ميں آدم کي اولاد کو وعدہ دوں گا اور انہيں گناہوں کا پياسا بنا دوں گا تاکہ وہ گناہ کریں اور جب وہ گناہ کے مرتکب ہو جائيں گے تب انہيں ايسي حالت ميں لے جاوںگا کہ وہ توبہ اور استغفار کرنا بھول جائيں۔  ابليس نے اس سے کہا کہ شاباش!  تم حريف ہو اور اسے يہ ذمہ داري سونپ دي اور کہا کہ تو قيامت تک يہ کام کرتے رہو ۔[ امالى صدوق ص 376 ح 5]
انسان سے جب کوئي گناہ ہو جاتا ہے تب انسان کو کوشش کرني چاہئے کہ وہ توبہ و استغفار کرے  تاکہ جو گناہ اس نے کئے ہیں ان گناہوں سے  معافي مل سکے اور آئندہ نفس پر قابو پانے کي طاقت حاصل ہو ۔  
پیارے بچو ! دنيا کي محبت انسان کو گناہوں پر مجبور کرتي ہے۔ اس لئے  انسان کو چاہئے کہ  اپنے کانوں ، زبان اور آنکھوں کي حفاظت کرے اور ان سے کسي بھي طرح کا گناہ سرزد نہ ہونے دے۔ اگر گناہ ہو بھي جائے  تو اس کي تلافي کرنے ميں دير نہ کرے ۔ انسان جانتا ہے کہ اس سے پہلے بھي يہاں لوگ بستے رہے ہيں۔ پچھلي قوموں کے اب قصّے ہي باقي رہ  گئے ہيں۔ جن لوگوں نے اپنے گناہوں کي معافي مانگي اور گناہوں سے بچے رہے وہ کامياب ہو گئے اور جو لوگ غفلت ميں رہتے ہوئے وقت ضائع کرتے رہے ، ان کي زندگي يوں ہي گزر گئي اور یہاں تک  کہ موت کے فرشتے نے ان کي جان لے لي۔

جو لوگ اپنے کئے گناہوں سے غافل رہتے ہيں ، ان کي غلطياں اور گناہ دن بدن زيادہ ہوتی جاتی ہيں ۔  ايک ايسا وقت آ جاتا ہے جب يہ گناہ ايک بڑے پردہ کي طرح انسان کي کاميابيوں کے سامنے حائل ہو جاتے ہيں ۔ گناہوں کے اثر کوزائل کرنے کا بھي ايک وقت مقرر ہوتا ہے ۔اس فرصت سے وقت پر استفادہ کرنا چاہيے اور جب يہ وقت گزر جاتا ہے تب انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔

بَلْ تَأْتِيهِم بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ رَدَّهَا وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ [النبأ:40]
ترجمہ : بلکہ يہ (قيامت کا ہولناک عذاب ) ان پر اچانک آئے گا تو انہيں بدحواس کر دے گا پھر انہيں نہ اسے ہٹا نے کي استطاعت ہو گي اور نہ ہي انہيں مہلت دي جائے گي۔

خدا تعالي کي ذات تمام انسانوں کو گناہوں سے بچے رہنے اور توبہ کرنے کي توفيق عطا فرمائے ۔ آمين