کد خبر ۸۳۹ ۳۹۷ بازدید انتشار : ۱۰ بهمن ۱۳۹۵ ساعت ۱۷:۰۸

محنت کی عظمت

پیارے بچو!

جب کبھی رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم جنگ کے لئے جاتے تو بہت سے مسلمان ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے  بھی ہوتے تھے جنکی چاہت یہ ہوتی تھی کہ جہاد میں شرکت کریں مگر کچھ کام کی وجہ سے وہ جنگ میں شرکت نہیں کر پاتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ میں رہ کر شہر کی حفاظت کرتے تھے اور دوسرے کام کاج  بھی کرتے رہتے تھے۔ مثلاً جن لوگوں کا کام کھیتی باڑی کا کام ہوتا تھا وہ اس دوران فصلیں اگاتے تھے تاکہ جب مسلمان جہاد سے لوٹ کر آئیں تو انہیں شہر میں آکر خوراک کی مشکل پیش نہ آئے۔ اسی طرح سے جو لوگ دوسرے کام انجام دیتے تھے وہ مدینہ میں رہتے ہوئے اپنے کام کرتے رہتے تھے ۔

جب جنگ تبوک ختم ہوئی اور مسلمانوں کا لشکر فتح کے ساتھ مدینہ واپس آیا تو جو لوگ جہاد کے لئے نہیں گئے تھے انہوں نے مجاہدوں کا استقبال کیا۔ ان لوگوں میں سے ایک شخص کا نام سعد تھا۔ جب وہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کے استقبال کے لئے آیا تو آپ نے اپنا ہاتھ سعد کی طرف بڑھایا اور اس سے مصافحہ کیا۔

پیغمبر اکرمؐ نے سعد کے ہاتھ کو بڑی مہربانی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔ جیسے سعد کے ہاتھ دوسرے لوگوں کے ہاتھوں سے کچھ الگ ہوں۔ در اصل سعد کے ہاتھ کافی سخت اور کھردرے تھے۔ معلوم ہو رہا تھا کہ سعد ایک محنت کش انسان ہے اور وہ اپنے ہاتھوں سے سخت محنت کرتا ہے۔

حضرت محمد ؐ نے سعد سے پوچھا ’’ تمہارے ہاتھ اتنے سخت اور کھردرے کیوں ہیں؟‘‘

سعد نے کہا’’ میں اپنے گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ہمیشہ کام کرتا رہتا ہوں، یا زمین پر ہل چلاتا ہوں یا رسی اور بالٹی لے کر کنویں سے پانی نکال کر درختوں کو پانی دیتا ہوں۔ میرے ہاتھ میں ہمیشہ ہل یا بیلچہ رہتا ہے اسی وجہ سے میرے ہاتھ سخت اور کھردرے ہو گئے ہیں۔

رسول اللہ ؐ سعد کے مسلسل کام کرنے اور سخت محنت سے بہت خوش ہوئے۔ کیونکہ آپ محنت کرنے والوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ اللہ کے آخری رسول اور سردار انبیاحضرت محمد مصطفیٰؐ نے سعد کی حوصلہ افزائی کے لئے اس کے ہاتھوں کو چوما اور پھر سعد کے ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’یہ وہ ہاتھ ہے جس کو جہنم کی آگ چھو بھی نہیں سکتی۔‘‘