کد خبر ۸۴۵ ۳۹۰ بازدید انتشار : ۱۱ بهمن ۱۳۹۵ ساعت ۱۹:۲۷

آو بچوں ! سب مل کر عھد کریں

قرآن مجید اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے وہ باتیں بتادی تھیں جو اب صحیح ثابت ہورہی ہیں۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں نے سائنس کے میدانوں میں ترقی کی۔ مسلمان سائنس دانوں میں چند نام مجھے یاد ہیں، جن میں جابر بن حیان، بو علی سینا اور ابن الہیشم بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے نام ہیں۔"تم جانتے ہو کہ جابر بن حیان نے کافی تجربات کیے، جو کامیاب ثابت ہوئے۔ بو علی سینا تو دوائوں کے موجد کہلائے جاتے ہیں۔ دریائے نیل پر جو عظیم الشان بند تعمیر ہے، اس کا منصوبہ ایک نامور مسلما

احمد اسکول سے آکر گھر میں پریشان پریشان سا پھر رہا تھا۔ اس کی امی نے اس سے کئی بار پوچھا، مگر اس نے کچھ نہ بتایا۔ جب اس کے چچا جان یونیورسٹی سے پڑھا کر واپس آئے تو وہ فوراً ان کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ چچا جان کو پتہ چل گیا کہ احمد ان سے کچھ پوچھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ وہ کھانا کھانے کے بعد ان کے کمرے میں آجائے۔
کھانا کھانے کے بعد احمد اپنے چاچو کے کمرے میں چلا گیا تو چاچو نے کہا: "ہاں بھئی، اب بتائو! کیا بات پوچھنا چاہتے ہو"۔
احمد نے کہا: "چاچو! آج ہماری ٹیچر بتار رہی تھیں کہ پہلے مسلمانوں نے ہی سائنس کے میدان میں قدم رکھا تھا، لیکن بعد میں انگریز اور دوسرے لوگ اس میدان پر حاوی ہوگئے۔ آخر کیوں اور کیسے۔ ذرا جلدی بتائیں! یہ بات مجھے بہت پریشان کررہی ہے"۔
چاچو نے کہا: "تم نے بہت اچھا سوال کیا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی سائنس کے میدان میں قدم رکھا۔
 قرآن مجید اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ  وسلم نے چودہ سو سال پہلے وہ باتیں بتادی تھیں جو اب صحیح ثابت ہورہی ہیں۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں نے سائنس کے میدانوں میں ترقی کی۔ مسلمان سائنس دانوں میں چند نام مجھے یاد ہیں، جن میں جابر بن حیان، بو علی سینا اور ابن الہیشم بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے نام ہیں۔
"تم جانتے ہو کہ جابر بن حیان نے کافی تجربات کیے، جو کامیاب ثابت ہوئے۔ بو علی سینا تو دوائوں کے موجد کہلائے جاتے ہیں۔ دریائے نیل پر جو عظیم الشان بند تعمیر ہے، اس کا منصوبہ ایک نامور مسلمان سائنسداں ابن الہیشم نے پیش کیا تھا۔
"اس وقت کے سائنسداں صرف ایک ہی میدان میں مہارت حاصل نہیں کرتے تھے، بلکہ بہت سارے علوم کے بارے میں پڑھتے تھے۔ صرف بو علی سینا نے ریاضی، طبیعیات، جغرافیہ، فلاسفی، فقہ اور ستاروں کے علوم میں مہارت حاصل کی ہوئی تھی اور بھی کئی مسلمان سائنسداں ایک سے زیادہ میدان میں مہارت رکھتے تھے۔
 مسلمانوں نے اتنی ترقی کرلی تھی کہ یونیورسٹیاں بھی بنالی تھیں اور ان میں ہر سال ہزاروں غیر مسلم بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ان غیر مسلموں میں سے نوے فیصد صرف مسلمان کے اچھے ادب اور اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا کرتے تھے۔ آج مسلمانوں کے لیے افسوس کا مقام ہے کہ انہوں نے اپنی شاندار تاریخ کو بھلادیا۔ ناصرف بھلا دیا بلکہ کوئی بھی محنت طلب کام کرنے کو اپنے لیے مصیبت سمجھتے ہیں اور جب انسان یہ سوچ لے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتا تو اسی وقت سے اس کی تباہی کا دور شروع ہوجاتا ہے۔
"اب یہی دیکھ لو کہ جو علم اس وقت کی یونیورسٹیوں نے غیر مسلموں کو دیا۔ اب وہ اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب انہوں نے اپنی یونیورسٹیاں بنالی ہیں، جب  کہ یہ سارا علم مسلمانوں کاہی بخشا ہوا ہے اور مسلمانوں نے اس سارے علم کو چھوڑ دیا اور فضول کاموں میں پڑ گئے، جس کی وجہ سے تم دیکھ سکتے ہو کہ پہلے ساری دنیا کی بادشاہت مسلمانوں سےچھن گئی اور پھر سارا علم بھی چلاگیا "۔ چاچو اتنا کہہ کر چپ ہوگئے۔
احمد جوغور سے اپنے چاچو کی باتیں سن رہا تھا۔ ان کے چپ ہونے پر بولا: "لیکن چاچو! اگر ہم سب محنت کریں تو ہم ایک بار پھر علم کی دولت حاصل کرسکتے ہیں نا"۔
چاچو نے کہا: "ہاں ضرور کیوں نہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں بہت محنت، ولولے اور سب سے بڑھ کر اتحاد کی ضرورت ہے۔ اب ہماری ساری امیدیں صرف نئی نسل سے وابستہ ہیں اور تم لوگوں کو خاص طور پر محنت کرنی ہوگی، تاکہ تم اپنے وطن، بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلاسکو"۔
احمد نے کہا: "چاچو! ان شاء اللہ ہم سب مل کر بہت محنت کریں گے اور مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام ضرور دلائیں گے"