کد خبر ۹۴۶ ۳۴۵ بازدید انتشار : ۷ فروردین ۱۳۹۶ ساعت ۲۱:۴۷

ایڈیسن

ایڈیسن نے سب سے بڑی نعمت جو ہم انسانوں کو دی وہ بجلی کا بلب ہے جس کے لیے اس نے سال ہا سال محنت کی۔

ایڈیسن امریکا کا سب سے بڑا موجد (اللہ کو ایک ماننے والا) مانا جاتا ہے ۔ اس نے کم سے کم  ایک ہزار چیزوں کو ایجاد کیا ہے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کام کی کوشش میں لگا رہتا تھا اور قریب قریب ہرمسئلے پر  اپنے گاوں والوں کو بہترین مشورے دیتا تھا۔ وہ میلان میں 11 فروری 1847 کو پیدا ہوا۔ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے ماں باپ مشیگن چلے گئے۔ وہاں ایڈیسن نے سب سے پہلے گرنیڈ ٹرنک ریلوے پر ایک اخبار بیچنے والے کی پوسٹ سے کام شروع کیا۔ کچھ دن کے بعد وہ ایک مال گاڑی میں اپنا ذاتی اخبار نکالنے اور چھاپنے لگا۔


اس کے بعد اس نے کچھ دن تک پوسٹ مین کی حیثیت سے کان شروع کیا۔ پھر اس نے ایک آلہ ایجاد کیا، جس سے کسی شخص کی مدد کے بغیر دوسری لائن پر بھی پیغامات بھیجے جاسکتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک چار رخ کا تار ایجاد کیا اور چلتی ہوئی ٹرینوں کو پیغام پہنچانے کا طریقہ بھی معلوم کر لیا۔


1886 میں ایڈیسن نے اپنے گھر اور لیبارٹری سے متعلق ضروری چیزیں بنانے کا ایک کارخانہ منیلو پارک میں کھولا۔ جس کو بڑی شہرت حاصل ہوئی، یہاں پینتالیس سال تک مسلسل اس نے محنت و مشقت سے زندگی گزاری۔

 
ایڈیس کی سب سے زیادہ مشہور ایجادوں میں سے چند یہ ہیں: فوٹو گراف، مائیکرو فون، میمیوگراف، ٹیلی فون اور سب سے بڑی نعمت جو اس نے ہم انسانوں کو دی وہ بجلی کا بلب ہے جس کے لیے اس نے سال ہا سال بہت ہی  صبر سے کام کیا۔ اسے بار بار ناکامی ہوئی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور آخر بجلی کا بلب بنانے میں کامیاب ہوا۔ اس نے کینٹوسکوپ بنایا جو ترقی پا کر آج کا سینما بن گیا۔ ایڈیسن نے اپنی ایجاد فوٹو گراف کو ترقی دے کر دونوں کو آپس میں  ملا کر بولتی چالتی تصویریں بناڈالیں۔ نکل اور لوہے کی اسٹوریج بیٹری بھی اس نے ایجاد کی اور اس کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ربڑ بنانے کا طریقہ معلوم کرلیا۔ ایڈیسن قریب قریب بہرا ہوگیا تھا۔ 17 اکتوبر 1931 کو اسکا انتقال ہوا ۔