کد خبر ۹۵۰ ۵۰۵ بازدید انتشار : ۸ فروردین ۱۳۹۶ ساعت ۲۲:۳۹

مائیکل فیراڈے

آپ کو یہ جان کر تعجب ضرور ہوگا اور ہونا بھی چاہءے کیوں جب میں نے پہلی بار یہ پڑھا کہ ماءیکل فیراڈے کی تحقیق بغیر کسی انجینءر کالج گءے ہوءے کی ہے کیوں کی فیراڈے کچھ زیادہ لکھا پڑھا آدمی نہیں تھا۔

 

کچھ ہی سائنس داں ہی  ایسے ہوں گے جنہوں نےبہت ہی  مفید دریافتیں کی ہوں جیسی مائیکل فیراڈے نے کیں۔ اگرلاءٹ کو ایجاد نہ کرتا تو آج دنیا میں بجلی کا راج کہیں نظر نہ آیا۔

آپ کو یہ جان کر تعجب ضرور ہوگا اور ہونا بھی چاہءے کیوں جب میں نے پہلی بار یہ پڑھا کہ ماءیکل فیراڈے کی تحقیق بغیر کسی انجینءر کالج گءے ہوءے کی ہے کیوں کی فیراڈے کچھ زیادہ لکھا پڑھا آدمی نہیں تھا۔
فیراڈے 22 ستمبر 1791 کو سرے۔ انگلینڈ نیونگٹن میں پیدا ہوا۔ ایک لوہار کا بیٹا تھا  اس لءے اس کے باپ نے اسکو اسکول بھیجنے کے لءے زیادہ دلچسپی نہیں دکھاءی ۔ فیراڈے بہت چھوٹی عمر میں ایک جلد ساز کے پاس بطور شاگرد بٹھایا گیا لیکن خدا جانے کہاں سے اس کو سائنس کا گہرا شوق پیدا ہوگیا۔ اس لءے  وہ اپنے خالیوقت  میں سائنس کی چھوٹی موٹی کتابیں پڑھ لیا کرتا تھا۔
اس کا سب سے بڑا کامیگنٹ سے  متعلق تھا۔ اور اس نے اس سے خوب تجربہ بھی کءے  اور تجربہ تجربہ کرتے کرتے  برقی ڈاینمو اور موٹر کو ایجاد کر دیا ۔ اس سلسلے میں اس نے بعض اور مفید دریافتیں بھی کیں۔ یہ فیراڈے ہی کی مہیا کی ہوئی معلومات تھیں  جس کی وجہ سے سائنسدانوں نے لاءٹ بنا دی اور ہم ، ہم کیا پوری دنیا ہر وقت اس لاءٹ کی محتاج ہے ۔